کمپنی کا تعارف اور پاکستان میں پس منظر
فنِجا، جس کا مکمل نام فنِجا لینڈنگ سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (FLSL) ہے، پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل مالیاتی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کمپنی 2015 میں لاہور میں قاصف شاہد، مونس رحمان اور عمر منور جیسے تجربہ کار بانیوں کے ہاتھوں قائم ہوئی تھی۔ کمپنی کو 2017 کے کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹر کیا گیا تھا اور 2019 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) کا لائسنس حاصل ہوا۔ یہ لائسنس فنِجا کو باضابطہ طور پر پاکستان میں قرض دینے کی خدمات فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
فنِجا کا بنیادی کاروباری ماڈل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (MSMEs)، خاص طور پر کرانہ اسٹورز، اور افراد کو مختصر مدت کے لیے ورکنگ کیپٹل قرضے فراہم کرنا ہے۔ یہ کمپنی اپنے منفرد مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) پر مبنی کریڈٹ سکورنگ ماڈلز کا استعمال کرتی ہے تاکہ قرض کی اہلیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس کے اہم سرمایہ کاروں میں ووستوک ایمرجنگ فنانس، بی نیکسٹ، کوونا کیپیٹل، حبیب بینک لمیٹڈ، سٹرجن کیپیٹل اور گرے میکینزی انجینئرنگ سروسز شامل ہیں، جنہوں نے کمپنی میں مجموعی طور پر تقریباً 24.5 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں 2022 میں 10 ملین ڈالر کی تازہ ترین فنڈنگ بھی شامل ہے۔ فنِجا کا مقصد پاکستان میں مالیاتی شمولیت کو فروغ دینا اور ان طبقات تک مالی رسائی کو آسان بنانا ہے جو روایتی بینکنگ نظام سے محروم ہیں۔
فنِجا کی قرض کی مصنوعات، شرحیں اور شرائط
فنِجا اپنے صارفین کی متنوع مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قرض کی کئی مصنوعات پیش کرتی ہے۔ ان میں سپلائی چین قرضے شامل ہیں جو تاجروں کو 30 دن کے ورکنگ کیپٹل کے لیے دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فنِجا انویسٹ کے ذریعے سٹاک فنانسنگ بھی فراہم کی جاتی ہے جو P2P (ہم سے ہم) قرضوں کی شکل میں ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کو سالانہ 36 فیصد تک منافع فراہم کرتی ہے۔ کاروباری اور ذاتی مالیات کے لیے بھی قرضے دستیاب ہیں جو اس کے NBFC پلیٹ فارم کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔
قرض کی رقم کے لحاظ سے، فنِجا کم سے کم 10,000 پاکستانی روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 500,000 پاکستانی روپے تک کے قرضے فراہم کرتی ہے۔ جہاں تک سود کی شرحوں اور سالانہ فیصد شرح (APR) کا تعلق ہے، فنِجا ایک سروس فیس ماڈل پر کام کرتی ہے۔ یہ عموماً 2.5 سے 3 فیصد فی 30 دن کے سائیکل پر مشتمل ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ماہانہ APR تقریباً 30 سے 36 فیصد کے درمیان ہوتا ہے۔ قرض کی مدت عام طور پر 30 سے 90 دن تک ہوتی ہے اور ادائیگی مساوی ماہانہ اقساط (EMIs) کی صورت میں کی جاتی ہے۔ تنخواہ دار افراد کے لیے، زیادہ سے زیادہ EMI ان کی خالص تنخواہ کے 40 فیصد تک محدود ہوتی ہے تاکہ ان پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
فیس کے ڈھانچے میں، قرض کی رقم پر 2.5 سے 3 فیصد کی ابتدائی سروس فیس اور 1 سے 2 فیصد کی پروسیسنگ فیس شامل ہوتی ہے جو قرض کی ادائیگی سے پہلے منہا کر لی جاتی ہے۔ تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں، 500 سے 1,000 پاکستانی روپے فی واقعہ کی فیس بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ ضمانت کی شرائط میں، 50,000 پاکستانی روپے تک کے قرضے بغیر ضمانت کے دستیاب ہیں، جبکہ اس سے زیادہ رقم کے لیے ذاتی ضمانت یا موجودہ سامان (inventory) جیسی ضمانت درکار ہو سکتی ہے۔ یہ شرائط شفافیت کو یقینی بناتی ہیں اور قرض لینے والوں کو اپنی مالی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
درخواست کا عمل، موبائل ایپ اور ریگولیٹری حیثیت
فنِجا کے قرضوں کے لیے درخواست کا عمل انتہائی آسان اور ڈیجیٹلائزڈ ہے۔ صارفین موبائل ایپ (جو iOS اور اینڈرائیڈ دونوں پر دستیاب ہے) یا کمپنی کی ویب سائٹ پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ کارپوریٹس کے لیے فنِجا بزنس ویب ڈیش بورڈ بھی موجود ہے۔ شناخت کی تصدیق (KYC) اور آن بورڈنگ کا عمل ڈیجیٹل طور پر مکمل کیا جاتا ہے، جس میں دستاویزات کی اپ لوڈنگ، بائیومیٹرک OTP اور CNIC کی تصدیق شامل ہے۔ کاروباری قرضوں کے لیے کاروبار کا ثبوت اور کریڈٹ ہسٹری بھی دیکھی جاتی ہے۔
فنِجا اپنی کریڈٹ سکورنگ اور انڈر رائٹنگ کے لیے ملکیتی AI/ML ماڈل کا استعمال کرتی ہے۔ یہ ماڈل صارفین کے لین دین کے ڈیٹا، سپلائی چین انٹیگریشنز اور ادائیگی کی تاریخ کا تجزیہ کرتا ہے تاکہ درست رسک پروفائل تیار کیا جا سکے اور خطرے کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جا سکے، جو اسلامی فنانس کے رہنما اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ قرض کی رقم کی ادائیگی بینک ٹرانسفر کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی بینک اکاؤنٹ میں کی جاتی ہے۔ ماضی میں موبائل والٹ کے ذریعے بھی ادائیگیاں کی جاتی تھیں جو اب EMI پلیٹ فارم کے ذریعے منتقل ہو چکی ہیں۔ شراکت دار آؤٹ لیٹس سے نقد رقم کی وصولی بھی ایک آپشن ہے۔
فنِجا کی موبائل ایپ کی خصوصیات قابل تعریف ہیں۔ گوگل پلے سٹور پر اسے 4.2 ستارے اور ایپ سٹور پر 4.5 ستارے کی اوسط ریٹنگ حاصل ہے، جو اس کے صارف دوست انٹرفیس اور کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ ایپ کے ذریعے قرض کی درخواست، ادائیگی کا شیڈیولر، ای-انوائسنگ اور ریئل ٹائم تجزیات جیسی خصوصیات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ریگولیٹری حیثیت کے لحاظ سے، فنِجا کو SECP کی جانب سے NBFC لائسنس (2019) اور P2P لینڈنگ سروس پرووائیڈر لائسنس (2023) حاصل ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اسے EMI پائلٹ کی بھی منظوری دی تھی جس کے تحت ڈیجیٹل آن بورڈنگ، والٹ اور کلیکشن کی خدمات فراہم کی گئیں۔ کمپنی NBFC ریگولیشنز 2008 اور AML/KYC قواعد کی مکمل پاسداری کرتی ہے۔
مارکیٹ پوزیشن، مقابلہ اور ممکنہ قرض گیرندگان کے لیے مشورے
پاکستان کے ڈیجیٹل قرضے کی مارکیٹ میں فنِجا ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ MSMEs کو قرض دینے والی ایک اہم ڈیجیٹل کمپنی ہے اور مختصر مدت کے فنٹیک قرضوں کی مارکیٹ میں تقریباً 15 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ اس کے اہم حریفوں میں موبی لنک مائیکروفنانس بینک، موبی کوِک، ڈی بینک اور سمپلی فائی شامل ہیں۔ فنِجا کی امتیازی خصوصیات میں اس کا ملکیتی AI/ML انڈر رائٹنگ ماڈل، سپلائی چین شراکتوں کے ساتھ گہرا انضمام اور اسلامی فنانس کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہیں۔
کمپنی کی ترقی اور توسیع کے منصوبوں میں P2P قرضوں (فنِجا انویسٹ) پر مزید توجہ دینا شامل ہے تاکہ متبادل سرمائے کے ذرائع حاصل کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، SBP کے ساتھ دوبارہ ڈیجیٹل بینکنگ لائسنس کے لیے درخواست دینے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ فنِجا نے حبیب بینک لمیٹڈ (HBL)، یونی لیور پاکستان، سٹینڈرڈ چارٹرڈ اور IDEO جیسی بڑی کمپنیوں کے ساتھ اہم شراکتیں بھی قائم کی ہیں تاکہ سپلائی چین فنانسنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
صارفین کے تاثرات کے مطابق، فنِجا کو تیز رفتار ادائیگیوں اور صارف دوست تجربے کے لیے سراہا جاتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات ایپ پر مبنی KYC کی تصدیق میں تاخیر اور تاخیر سے ادائیگی کی فیس کے تنازعات جیسی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ فنِجا کی کسٹمر سروس 24/7 ان ایپ چیٹ سپورٹ اور لاہور میں کال سینٹر کے ذریعے دستیاب ہے، جس کا اوسط حل وقت 24 گھنٹے ہے۔
ممکنہ قرض گیرندگان کے لیے عملی مشورے:
- اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں: قرض لینے سے پہلے اپنی موجودہ مالی حالت کا درست اندازہ لگائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ قرض کی اقساط کو وقت پر ادا کر سکتے ہیں۔
- شرائط و ضوابط کو سمجھیں: فنِجا کے قرضوں کی تمام شرائط و ضوابط، بشمول فیس، سود کی شرحیں، اور ادائیگی کے شیڈیول کو بغور پڑھیں اور سمجھیں۔ اگر کوئی ابہام ہو تو کمپنی سے رابطہ کریں۔
- تاخیر سے ادائیگی سے گریز کریں: تاخیر سے ادائیگی اضافی فیس اور آپ کے کریڈٹ سکور پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ہمیشہ مقررہ وقت پر ادائیگی کو یقینی بنائیں۔
- ایپ کا موثر استعمال: فنِجا کی موبائل ایپ قرض کی نگرانی، ادائیگی کے شیڈول اور دیگر معلومات کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس کا بھرپور استعمال کریں۔
- مقابلے کا جائزہ: اگر ممکن ہو تو، فنِجا کے ساتھ ساتھ دیگر ڈیجیٹل قرض دہندگان کی پیشکشوں کا بھی جائزہ لیں تاکہ آپ اپنی ضروریات کے لیے بہترین آپشن کا انتخاب کر سکیں۔
مالی کارکردگی اور مستقبل کی راہیں
مالیاتی کارکردگی کے لحاظ سے، فنِجا نے 2023 کے مالی سال میں تقریباً 2.5 بلین پاکستانی روپے (تقریباً 14 ملین امریکی ڈالر) کی آمدنی حاصل کی (غیر تصدیق شدہ)۔ تاہم، قرض دینے والے شعبے میں کمپنی کو منافع بخشیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جنوری 2024 تک، قرض دینے والے شعبے کو مجموعی طور پر 91 کروڑ پاکستانی روپے کا نقصان ہوا، جبکہ 2021 میں خالص نقصان 17.8 کروڑ روپے تھا۔ جنوری 2024 میں اکیلے 13.7 کروڑ روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ کمپنی نے فنڈنگ کے کئی راؤنڈز سے تقریباً 24.5 ملین امریکی ڈالر اکٹھے کیے ہیں، جن میں 2020 میں 3 ملین ڈالر کا کنورٹیبل نوٹ اور 2022 میں HBL کی قیادت میں 10 ملین ڈالر کی سیریز A فنڈنگ شامل ہے۔
فنِجا کا موجودہ قرض پورٹ فولیو تقریباً 1.2 بلین پاکستانی روپے (تقریباً 7 ملین امریکی ڈالر) ہے۔ ڈیفالٹ کی شرح 8 سے 10 فیصد کے درمیان ہے، جس کے لیے کمپنی نے احتیاطی تدابیر کے طور پر مالی انتظامات کیے ہیں۔ خراب قرضوں کے لیے 1 فیصد تک کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔ رسک مینجمنٹ کے لیے، فنِجا 1 فیصد خراب قرض کی گنجائش برقرار رکھتی ہے اور KIBOR سے منسلک سروس فیس کی متحرک ایڈجسٹمنٹ کرتی ہے۔ ریئل ٹائم مانیٹرنگ اینالیٹکس ڈیش بورڈ کے ذریعے کی جاتی ہے۔
فنِجا کا اختراعی ڈیجیٹل قرض دینے کا ڈھانچہ، ریگولیٹری منظوریوں اور اسٹریٹجک اتحادوں نے اسے پاکستان کے فنٹیک منظر نامے میں ایک نمایاں مقام دیا ہے۔ اگرچہ منافع بخشیت کے چیلنجز اور فنڈز کی زیادہ لاگت اس کے لیے اہم چیلنجز ہیں، خاص طور پر جب یہ مزید ترقی کر رہی ہے اور ڈیجیٹل بینکنگ لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، اس کی مضبوط ٹیکنالوجی، وسیع رسائی اور مالیاتی شمولیت کے عزم کے ساتھ، فنِجا پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے مستقبل کو شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔