پاکستان میں ڈیجیٹل قرضوں اور مالی خدمات کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اسمارٹ فونز کے وسیع استعمال اور انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی رسائی نے لاکھوں پاکستانیوں کو مالی خدمات تک رسائی فراہم کی ہے، جو پہلے بینکوں کی روایتی شاخوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے معاون ریگولیٹری فریم ورک کی بدولت، ڈیجیٹل قرض ایپس تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور صارفین کی کریڈٹ کی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں۔ تاہم، اس تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے میں کچھ خطرات بھی موجود ہیں جن سے آگاہ رہنا ضروری ہے۔ ایک مالیاتی تجزیہ کار کی حیثیت سے، میرا مقصد آپ کو اس منظرنامے کو سمجھنے اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل قرضوں کا موجودہ منظرنامہ
پاکستان میں صارفین کے کریڈٹ کی رسائی اب بھی کم ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 8% ہے۔ اس کے مقابلے میں، خطے کے دیگر ممالک میں یہ شرح 40% تک ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے میں ڈیجیٹل قرض ایپس اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسمارٹ فونز کے 76% پھیلاؤ اور 8.5 کروڑ سے زیادہ 4G انٹرنیٹ سبسکرپشنز کے ساتھ، فن ٹیک کمپنیاں ان طبقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہی ہیں جنہیں پہلے بینکوں کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا تھا۔
موجودہ صورتحال (ستمبر 2025) کے مطابق، پاکستان میں ڈیجیٹل قرضوں کا مجموعی بقایا حجم 110 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سالانہ 65% کی غیر معمولی شرح نمو دیکھی جا رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ 1.2 کروڑ سے زائد صارفین ان قرض ایپس کو فعال طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایس بی پی نے 40 سے زائد مائیکرو فنانس اداروں کو ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے۔
ریگولیٹری ماحول اور صارفین کا تحفظ
ایس بی پی نے 2024 میں ڈیجیٹل قرضوں کے لیے رہنما اصول (Digital Lending Guidelines) جاری کیے ہیں، جن کا مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور مارکیٹ میں نظم و ضبط لانا ہے۔ ان رہنما اصولوں کے تحت:
- قرض ایپس کے لیے نادرا کے ذریعے ای-کے وائی سی (الیکٹرانک اپنے گاہک کو جانیں) لازمی ہے۔
- غیر محفوظ مائیکرو قرضوں پر سالانہ شرحِ فیصد (APR) کی حد 24% مقرر کی گئی ہے۔
- فیسوں اور چارجز کی معیاری اور شفاف وضاحت ضروری ہے۔
- صارفین کی شکایات کے لیے موبائل فرسٹ چینلز کا قیام لازمی ہے۔
ایس بی پی اپنے قوانین کے نفاذ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ جولائی 2025 میں تین غیر لائسنس یافتہ ایپس کو وارننگ جاری کی گئیں، اور اگست 2025 میں ایک آپریٹر پر سالانہ شرحِ فیصد کی خلاف ورزی پر 50 ملین روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یہ اقدامات صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایس بی پی کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم قرض ایپ کمپنیاں اور ان کی خدمات
پاکستان میں 50 سے زائد لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ قرض ایپس مارکیٹ میں موجود ہیں۔ یہاں ہم چند اہم اور معروف قرض ایپس کا جائزہ پیش کر رہے ہیں:
1. ایزی پیسہ قرض (EasyPaisa Loan)
- کمپنی: ٹیلینور مائیکرو فنانس بینک
- قرض کی رقم: 5,000 روپے سے 100,000 روپے تک۔
- سالانہ شرحِ فیصد (APR): 12% سے 24% تک (ایس بی پی کی مقرر کردہ حد کے مطابق)۔
- شرائط و فیس: 1% پروسیسنگ فیس؛ تاخیر کی فیس 2% فی ہفتہ۔
- کے وائی سی: نادرا سے تصدیق شدہ بائیو میٹرک ای-کے وائی سی۔
- قرض کی منظوری کا ماڈل: کریڈٹ بیورو اسکور اور ایزی پیسہ پر لین دین کی تاریخ۔
- ریگولیٹری حیثیت: ایس بی پی سے لائسنس یافتہ۔
- پلے اسٹور ریٹنگ: 4.2/5۔
- صارف تجربہ (UX): استعمال میں آسان ڈیش بورڈ، کبھی کبھار لاگ ان میں تاخیر۔
- طاقتیں: مضبوط برانڈ اور قواعد پر عملدرآمد۔ کمزوریاں: نئے صارفین کے لیے کریڈٹ کی محدود دستیابی۔
2. جاز کیش کوئیک لون (JazzCash Quick Loan)
- کمپنی: ویون (VEON)
- قرض کی رقم: 2,000 روپے سے 50,000 روپے تک۔
- سالانہ شرحِ فیصد (APR): 18% سے 24% تک۔
- شرائط و فیس: 100 روپے فلیٹ سروس چارج؛ پہلے 3 دن کوئی تاخیر کی فیس نہیں۔
- کے وائی سی: موبائل نمبر او ٹی پی (OTP) اور نادرا سی این آئی سی (CNIC) چیک۔
- قرض کی منظوری کا ماڈل: ٹیلی کام استعمال کے میٹرکس اور بیورو ڈیٹا۔
- ریگولیٹری حیثیت: ایس بی پی سے لائسنس یافتہ؛ جولائی 2025 میں معلومات کی شفافیت کے مسائل پر وارننگ ملی۔
- پلے اسٹور ریٹنگ: 4.0/5۔
- صارف تجربہ (UX): موبائل آف لائن موڈ غیر مستحکم۔
- طاقتیں: ٹیلی کام ڈیٹا سے فائدہ۔ کمزوریاں: معلومات کی شفافیت میں کبھی کبھار کمی۔
3. یوفون ڈیجیٹل فنانس (Ufone Digital Finance)
- کمپنی: یو مائیکرو فنانس بینک
- قرض کی رقم: 3,000 روپے سے 60,000 روپے تک۔
- سالانہ شرحِ فیصد (APR): 15% سے 22% تک۔
- شرائط و فیس: 1.5% پروسیسنگ فیس؛ اوور ڈیو (overdue) ہونے پر 2% ہفتہ وار چارج۔
- کے وائی سی: یوفون سم (SIM) اور نادرا کی تصدیق۔
- قرض کی منظوری کا ماڈل: ٹیلی کام اور بینک اکاؤنٹ سکورنگ۔
- ریگولیٹری حیثیت: لائسنس یافتہ۔
- پلے اسٹور ریٹنگ: 3.8/5۔
- صارف تجربہ (UX): سپورٹ کا جواب سست۔
- طاقتیں: قابل اعتماد قرض کی منظوری کا عمل۔ کمزوریاں: قرض کی زیادہ سے زیادہ حد محدود۔
4. تیز فنانشل سروسز (Tez Financial Services)
- کمپنی: تیز فنانشل سروسز
- قرض کی رقم: 10,000 روپے سے 250,000 روپے تک۔
- سالانہ شرحِ فیصد (APR): 18% سے 24% تک۔
- شرائط و فیس: 0.8% پروسیسنگ فیس؛ 1% ہفتہ وار تاخیر کی فیس۔
- کے وائی سی: نادرا کے ساتھ شراکت کے ذریعے مکمل ای-کے وائی سی۔
- قرض کی منظوری کا ماڈل: اسمارٹ فون کے استعمال پر مبنی اے آئی (AI) سکورنگ۔
- ریگولیٹری حیثیت: لائسنس یافتہ۔
- پلے اسٹور ریٹنگ: 4.5/5۔
- صارف تجربہ (UX): تیز ترسیل، لیکن یوزر انٹرفیس کبھی کبھی پیچیدہ لگ سکتا ہے۔
- طاقتیں: قرض کی زیادہ حدود۔ کمزوریاں: پیچیدہ یوزر انٹرفیس۔
5. کارانداز مائیکرو لون (Karandaaz Microloan)
- کمپنی: کارانداز پاکستان
- قرض کی رقم: 5,000 روپے سے 150,000 روپے تک۔
- سالانہ شرحِ فیصد (APR): 11% سے 20% تک۔
- شرائط و فیس: 1% پروسیسنگ فیس؛ چھوٹے کاروبار کی مشاورت کی فیس۔
- کے وائی سی: نادرا اور کاروبار کی تصدیق۔
- قرض کی منظوری کا ماڈل: سوشل ڈیٹا اور مالیاتی بیانات۔
- ریگولیٹری حیثیت: مائیکرو فنانس لائسنس یافتہ۔
- پلے اسٹور ریٹنگ: 4.3/5۔
- صارف تجربہ (UX): پیشہ ورانہ سپورٹ۔
- طاقتیں: این جی او (NGO) کی ساکھ۔ کمزوریاں: ریٹیل صارفین پر محدود توجہ۔
غیر لائسنس یافتہ ایپس کے خطرات: کیش ناؤ پاکستان اور کریڈٹ میٹ
کیش ناؤ پاکستان (CashNow Pakistan) اور کریڈٹ میٹ (CreditMate) جیسی کئی ایپس ایس بی پی سے لائسنس یافتہ نہیں ہیں۔
- کیش ناؤ پاکستان: یہ ایپ 2,000 سے 30,000 روپے تک کے قرضے فراہم کرتی ہے لیکن اس کی سالانہ شرحِ فیصد 45% سے 120% تک غیر تصدیق شدہ اور بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایس بی پی نے جولائی 2025 میں اسے روک تھام کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کی پلے اسٹور ریٹنگ 2.9/5 ہے اور صارفین مداخلت کرنے والی اجازتوں (intrusive permissions) کی شکایت کرتے ہیں۔
- کریڈٹ میٹ: یہ 1,000 سے 25,000 روپے تک کے قرضے فراہم کرتی ہے اور اس کی سالانہ شرحِ فیصد 80% سے 150% تک غیر تصدیق شدہ ہو سکتی ہے۔ یہ بھی غیر لائسنس یافتہ ہے اور صارفین کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس کی پلے اسٹور ریٹنگ 3.0/5 ہے اور اس میں مداخلت کرنے والے اشتہارات دیکھے جاتے ہیں۔
دیگر لائسنس یافتہ ایپس: فن سرو، قرض گو، ریپٹ پے
- فن سرو (FinServe): 5,000 سے 200,000 روپے تک، 24% سالانہ شرحِ فیصد، لائسنس یافتہ، پلے اسٹور ریٹنگ 4.1/5۔
- قرض گو (QarzGo): 10,000 سے 300,000 روپے تک، 18-24% سالانہ شرحِ فیصد، ایس بی پی کی منظوری زیر التواء (غیر تصدیق شدہ)، پلے اسٹور ریٹنگ 4.2/5۔ یہ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ ہے لیکن پاکستان میں کام کر رہی ہے۔
- ریپٹ پے (RaptPay): 2,000 سے 80,000 روپے تک، 20-24% سالانہ شرحِ فیصد، لائسنس یافتہ، پلے اسٹور ریٹنگ 4.0/5۔
اہم ایپس کا تقابلی جائزہ (مختصر)
یہاں چند اہم ایپس کی سالانہ شرحِ فیصد، زیادہ سے زیادہ قرض کی رقم اور پلے اسٹور ریٹنگ کا ایک مختصر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے:
- ایزی پیسہ قرض: سالانہ شرحِ فیصد 12-24%، زیادہ سے زیادہ قرض 100,000 روپے، ریٹنگ 4.2۔
- جاز کیش کوئیک لون: سالانہ شرحِ فیصد 18-24%، زیادہ سے زیادہ قرض 50,000 روپے، ریٹنگ 4.0۔
- یوفون ڈیجیٹل فنانس: سالانہ شرحِ فیصد 15-22%، زیادہ سے زیادہ قرض 60,000 روپے، ریٹنگ 3.8۔
- تیز فنانشل سروسز: سالانہ شرحِ فیصد 18-24%، زیادہ سے زیادہ قرض 250,000 روپے، ریٹنگ 4.5۔
- کارانداز مائیکرو لون: سالانہ شرحِ فیصد 11-20%، زیادہ سے زیادہ قرض 150,000 روپے، ریٹنگ 4.3۔
- فن سرو: سالانہ شرحِ فیصد 24%، زیادہ سے زیادہ قرض 200,000 روپے، ریٹنگ 4.1۔
- قرض گو: سالانہ شرحِ فیصد 18-24%، زیادہ سے زیادہ قرض 300,000 روپے، ریٹنگ 4.2۔
- ریپٹ پے: سالانہ شرحِ فیصد 20-24%، زیادہ سے زیادہ قرض 80,000 روپے، ریٹنگ 4.0۔
نوٹ: کیش ناؤ پاکستان اور کریڈٹ میٹ جیسی غیر لائسنس یافتہ ایپس کی سالانہ شرحِ فیصد غیر تصدیق شدہ اور بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
صارفین کے لیے خطرات اور تحفظ
ڈیجیٹل قرض ایپس، خاص طور پر غیر لائسنس یافتہ ایپس، صارفین کے لیے کئی خطرات پیدا کر سکتی ہیں:
- غیر معمولی شرحِ فیصد: کچھ غیر لائسنس یافتہ ایپس 100% سے زیادہ سالانہ شرحِ فیصد وصول کرتی ہیں، جو صارفین کو قرض کے جال میں پھنسا سکتی ہیں۔
- ڈیٹا پرائیویسی کے خدشات: یہ ایپس آپ کے فون کی گیلری، رابطوں اور دیگر ذاتی ڈیٹا تک رسائی مانگ سکتی ہیں، جس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- جارحانہ قرض وصولی: غیر لائسنس یافتہ آپریٹرز دھمکی آمیز کالز اور بلیک میلنگ کا سہارا لے سکتے ہیں۔
- کریڈٹ اسکور پر اثر: متعدد مائیکرو قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ آپ کے کریڈٹ بیورو ریٹنگ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے مستقبل میں قرض حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
- ریگولیٹری غیر یقینی: ایس بی پی کے لائسنس کے بغیر کام کرنے والی ایپس کو اچانک بند کیا جا سکتا ہے، جس سے آپ کے قرض کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔
صارفین کے لیے عملی مشورے اور مستقبل کا منظرنامہ
ڈیجیٹل قرض ایپس کا انتخاب کرتے وقت، مالی طور پر باخبر رہنا اور احتیاط برتنا انتہائی ضروری ہے۔ یہاں چند عملی مشورے پیش کیے گئے ہیں:
- ایس بی پی لائسنس کی تصدیق کریں: قرض کے لیے درخواست دینے سے پہلے ایس بی پی کی ڈیجیٹل قرض دہندہ رجسٹری پر ایپ کا لائسنس چیک کریں۔ صرف لائسنس یافتہ اداروں سے ہی قرض لیں۔
- سالانہ شرحِ فیصد اور فیسوں کا موازنہ کریں: مختلف ایپس کی پیش کردہ سالانہ شرحِ فیصد اور دیگر فیسوں کا موازنہ کریں۔ ایسی کسی بھی ایپ سے گریز کریں جس کی سالانہ شرحِ فیصد 24% سے زیادہ ہو۔
- اجازتوں کو محدود کریں: ایپ کو صرف ضروری فون، کیمرہ اور شناخت کی اجازتیں دیں۔ غیر ضروری اجازتیں نہ دیں۔
- شرائط و ضوابط کو غور سے پڑھیں: پوشیدہ رول اوور (rollover) یا تاخیر سے ادائیگی کی فیسوں کو تلاش کریں۔ اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے تو قرض لینے سے گریز کریں۔
- بروقت ادائیگیاں کریں: تاخیر کی فیسوں اور کریڈٹ رسک سے بچنے کے لیے کیلنڈر پر یاد دہانیاں سیٹ کریں اور بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں۔
مارکیٹ کے رجحانات اور مستقبل کا منظرنامہ
پاکستان میں ڈیجیٹل قرضوں کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال، ایس بی پی کی معاون پالیسیاں، اور صارفین کی غیر پوری شدہ مالی ضروریات اس شعبے کی ترقی کو مزید فروغ دیں گی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی، جیسے مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) پر مبنی سکورنگ ماڈلز، قرض کی منظوری کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنائیں گے۔ موبائل پیسہ اور بینکنگ کا انضمام بھی صارفین کے لیے سہولیات میں اضافہ کرے گا۔ تاہم، ایس بی پی کی جانب سے سخت ریگولیشن اور غیر لائسنس یافتہ آپریٹرز کے خلاف کارروائیاں مارکیٹ میں مزید استحکام لائیں گی اور صارفین کے اعتماد کو بحال کریں گی۔
بحیثیت ایک مالیاتی تجزیہ کار، میرا مشورہ ہے کہ آپ ہمیشہ معلومات کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ ڈیجیٹل قرضے آپ کی فوری مالی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا ذمہ دارانہ استعمال اور لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز کا انتخاب ہی آپ کو مالی مشکلات سے بچا سکتا ہے۔