مرکزی بینک کی شرح: 11.00%
menu

AdalFi

کمپنی کا تعارف اور پس منظر

عدل فائی (پرائیویٹ) لمیٹڈ پاکستان میں رجسٹرڈ ایک مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کام کر رہی ہے۔ جولائی 2021 میں ٹیک لاجکس سے الگ ہو کر ایک آزاد ادارے کے طور پر قائم کی گئی، عدل فائی نے بہت کم عرصے میں پاکستان کے مالیاتی منظر نامے میں اپنی ایک اہم جگہ بنا لی ہے۔ یہ کمپنی بانیان، انتظامیہ اور بین الاقوامی وینچر کیپیٹل فرمز جیسے کہ کوٹو وینچرز، چیمرا وینچرز، فاطمہ گوبی وینچرز اور زین کیپیٹل کی حمایت سے ترقی کر رہی ہے۔

عدل فائی کا بنیادی کاروباری ماڈل پاکستان میں بینکوں کو ڈیجیٹل قرضوں کا ایک مکمل بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ اس کا مقصد ان کروڑوں پاکستانیوں کو مالیاتی خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے جو بینکوں سے قرض لینے کی روایت سے محروم ہیں۔ عدل فائی مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی کریڈٹ اسکورنگ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کی کریڈٹ اہلیت کا جائزہ لیتی ہے، جس میں لین دین کی تاریخ، اوپن بینکنگ ڈیٹا اور کریڈٹ بیورو کے ریکارڈ شامل ہوتے ہیں۔ یہ نظام بینکوں کو غیر محفوظ قرضے فوری طور پر منظور اور تقسیم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کمپنی کا منفرد آمدنی اور رسک شیئرنگ ماڈل اسے مارکیٹ میں نمایاں کرتا ہے۔ بینکوں کو عدل فائی کے پلیٹ فارم کے لیے کوئی پیشگی لائسنس یا انٹیگریشن فیس ادا نہیں کرنی پڑتی، بلکہ وہ ہر قرض پر آمدنی اور رسک دونوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس سے عدل فائی اور اس کے شراکت دار بینکوں کے مفادات ہم آہنگ رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں قرضوں کی بہتر کارکردگی اور کم ڈیفالٹ شرح دیکھنے میں آتی ہے۔ کمپنی کی قیادت سلمان اختر (شریک بانی اور سی ای او) جیسے تجربہ کار افراد کر رہے ہیں، جو ایم آئی ٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری رکھتے ہیں۔ ارسلان احمد (سی ٹی او) اور شہاب احمد (چیف ڈیٹا سائنٹسٹ) بھی ٹیم کا حصہ ہیں، جو ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سائنس میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

عدل فائی کی قرضہ جات کی مصنوعات اور خدمات

عدل فائی خود براہ راست صارفین کو قرضے فراہم نہیں کرتی، بلکہ یہ اپنے شراکت دار بینکوں کو مختلف اقسام کے ڈیجیٹل قرضے پیش کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور فریم ورک مہیا کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام قرضے شراکت دار بینکوں کے نام سے جاری کیے جاتے ہیں، اور ان کی شرائط و ضوابط ہر بینک کی پالیسیوں کے مطابق ہوتے ہیں۔ عدل فائی کے پلیٹ فارم کے ذریعے پیش کی جانے والی اہم قرضہ جات کی مصنوعات درج ذیل ہیں:

  • ریوالونگ کریڈٹ لونز (رننگ فنانس): یہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد (SMEs) کے لیے فوری فنڈنگ لائنز ہیں جو ان کے کاروبار کو چلانے کے لیے ضروری ورکنگ کیپیٹل فراہم کرتی ہیں۔ یہ بینکوں کے بنیادی بینکنگ سسٹم کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔
  • کریڈٹ کارڈز: عدل فائی بینکوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ صارفین کو مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر قبل از منظور شدہ (Pre-approved) کریڈٹ کارڈز کی پیشکش کر سکیں۔ یہ کارڈز براہ راست بینکوں کے کارڈ مینجمنٹ سسٹمز کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔
  • ٹرم لونز: یہ روایتی قرضے ہیں جو ایک مقررہ مدت کے لیے دیے جاتے ہیں۔ ان کی مدت اور شرح سود بینکوں کی پالیسیوں کے مطابق مقرر کی جاتی ہے، اور ادائیگی کا شیڈول بھی لچکدار ہو سکتا ہے۔
  • تنخواہ ایڈوانسز: یہ ملازمین کے لیے مختصر مدت کے قرضے ہیں جو ان کی تنخواہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ قرضے تنخواہ کی بنیاد پر پہلے سے منظور شدہ ہوتے ہیں اور عام طور پر فوری طور پر دستیاب ہو جاتے ہیں۔

یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ قرضوں کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ رقم، شرح سود، سالانہ فیصد شرح (APR)، قرض کی مدت، پروسیسنگ فیس، تاخیر سے ادائیگی کی فیس اور دیگر شرائط و ضوابط ہر شراکت دار بینک کی طرف سے مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ معلومات عدل فائی کی طرف سے مرکزی طور پر شائع نہیں کی جاتی ہیں، بلکہ ہر بینک کی اپنی پالیسیاں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریگولیٹری رہنما اصول ان پر لاگو ہوتے ہیں۔ ممکنہ قرض خواہوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قرض کی تمام شرائط کے بارے میں براہ راست متعلقہ بینک سے معلومات حاصل کریں۔

درخواست کا عمل، شرائط اور موبائل ایپ کی خصوصیات

عدل فائی کا کاروباری ماڈل B2B (بزنس ٹو بزنس) ہے، یعنی یہ براہ راست صارفین کے لیے کوئی الگ موبائل ایپ یا ویب پورٹل نہیں چلاتی۔ اس کے بجائے، قرضے شراکت دار بینکوں کی موجودہ ڈیجیٹل چینلز، جیسے کہ ان کی موبائل ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ پورٹلز، یا بعض صورتوں میں ڈیجیٹل کیوسک کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔ عدل فائی کی ٹیکنالوجی SDKs (سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کٹس) اور APIs (ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیسز) کے ذریعے بینکوں کے سسٹمز میں ضم کی جاتی ہے، جس سے ایک ہموار اور فوری قرض کی درخواست کا تجربہ ممکن ہوتا ہے۔

درخواست کا عمل اور شرائط:

  • چینلز: صارفین متعلقہ شراکت دار بینک کی موبائل ایپ یا انٹرنیٹ بینکنگ پورٹل کے ذریعے قرض کی درخواست دے سکتے ہیں۔
  • کے وائی سی (KYC) اور آن بورڈنگ: چونکہ عدل فائی بینکوں کے موجودہ صارفین کو ہدف بناتی ہے، اس لیے آن بورڈنگ کا عمل بینکوں کے موجودہ کسٹمر ڈیٹا کو بروئے کار لاتا ہے۔ شناخت کی خودکار تصدیق اور پتے کی توثیق سمیت کے وائی سی کے تمام تقاضے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق پورے کیے جاتے ہیں۔
  • کریڈٹ اسکورنگ اور انڈر رائٹنگ: عدل فائی کے بنیادی ڈھانچے کا سب سے اہم جزو اس کا ملکیتی مصنوعی ذہانت پر مبنی کریڈٹ اسکورنگ ماڈل ہے۔ یہ ماڈل لین دین کی تاریخ، اوپن بینکنگ فیڈز، کریڈٹ بیورو ڈیٹا، اور دیگر رویے کے اشاروں کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کی بنیاد پر، ایک قابل وضاحت اسکور کارڈ تیار کیا جاتا ہے جو بینکوں کو فوری اور درست قرض کے فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ماڈل مسلسل بہتر ہوتا رہتا ہے تاکہ قرض کے فیصلوں کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
  • قرض کی تقسیم: قرض کی منظوری کے بعد، رقم فوری طور پر صارفین کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی ہے، جو حقیقی وقت کی ادائیگی کے نظام (real-time payment rails) کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ کچھ بینک موبائل والٹ میں منتقلی یا ایجنٹ کے ذریعے نقد رقم کی وصولی کے آپشنز بھی فراہم کرتے ہیں۔

موبائل ایپ کی خصوصیات اور صارف کا تجربہ:

اگرچہ عدل فائی کی اپنی کوئی صارفین کے لیے ایپ نہیں ہے، لیکن اس کی ٹیکنالوجی بینکوں کی ایپس کو درج ذیل خصوصیات سے مزین کرتی ہے:

  • فوری درخواست: صارف بینک کی ایپ کے اندر رہتے ہوئے چند منٹوں میں قرض کی درخواست مکمل کر سکتا ہے۔
  • کاغذ کے بغیر عمل: تمام عمل ڈیجیٹل ہوتا ہے، جس سے کاغذات کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
  • شخصی پیشکشیں: مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر، صارفین کو ان کی مالیاتی تاریخ کے مطابق ذاتی نوعیت کی قرض کی پیشکشیں موصول ہوتی ہیں۔
  • شفافیت: بینک کی ایپ کے ذریعے قرض کی شرائط، شرح سود اور ادائیگی کا شیڈول واضح طور پر دکھایا جاتا ہے۔
  • آسان ادائیگی: قرض کی اقساط خود بخود صارف کے بینک اکاؤنٹ سے ڈیبٹ ہو جاتی ہیں، جس سے ادائیگی کا عمل آسان اور بروقت رہتا ہے۔

یہ خصوصیات صارفین کے لیے قرض کے حصول کے عمل کو نہ صرف تیز بلکہ آسان اور قابل رسائی بناتی ہیں، جس سے ایک بہتر صارف تجربہ فراہم ہوتا ہے۔

ریگولیٹری حیثیت، مارکیٹ پوزیشن اور مقابلہ

ریگولیٹری حیثیت اور لائسنسنگ:

عدل فائی پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے فِن ٹیک لائسنسنگ فریم ورک کے تحت ایک غیر بینکنگ مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ ایس بی پی کے ڈیجیٹل قرضہ پلیٹ فارمز، ڈیٹا پرائیویسی، اور اینٹی منی لانڈرنگ (AML)/کے وائی سی (KYC) سے متعلق تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرتی ہے۔ اس کے خلاف اب تک کسی قسم کی عوامی سطح پر کوئی ریگولیٹری کارروائی یا جرمانے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ صارفین کے تحفظ کے حوالے سے، عدل فائی ایس بی پی کے کنزیومر پروٹیکشن رولز کی پاسداری کرتی ہے، جس میں قرض کی شرائط کی شفاف افشاء، تنازعات کے حل کا میکانزم، اور منصفانہ وصولی کے طریقوں کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

مارکیٹ پوزیشن اور مسابقتی صورتحال:

عدل فائی کو پاکستان میں پہلے اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل قرضہ فراہم کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے طور پر ایک اہم مقام حاصل ہے۔ اس کا آمدنی اور رسک شیئرنگ ماڈل اسے فلیٹ فیس SaaS (سافٹ ویئر ایز اے سروس) فراہم کنندگان سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ ماڈل بینکوں کے ساتھ اس کے مفادات کو ہم آہنگ کرتا ہے، جس سے قرض کے پورٹ فولیو کی بہتر کارکردگی یقینی ہوتی ہے۔ ستمبر 2025 تک، عدل فائی نے 14 شراکت دار بینکوں کے ساتھ فعال طور پر کام کیا ہے، جن میں پاکستان کے 10 سرفہرست بینکوں میں سے 7 شامل ہیں۔ کمپنی نے 450,000 سے زائد منفرد قرض خواہوں کا جائزہ لیا ہے اور 200 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے قرضے تقسیم کیے ہیں، جس میں 90 دن کی ڈیفالٹ شرح صرف 0.2 فیصد ہے، جو ملک کی اوسط شرح (تقریباً 6%) سے کہیں کم ہے۔ یہ شرح عدل فائی کے کریڈٹ اسکورنگ ماڈل کی غیر معمولی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔

اہم حریف:

پاکستان کی مارکیٹ میں عدل فائی کے براہ راست اور بالواسطہ حریفوں میں شامل ہیں:

  • مقامی قرضہ پلیٹ فارمز: کراندز (Karandaaz)، کریڈٹ بک (CreditBook)۔
  • ایمبیڈڈ فنانس پلیئرز: ایزی پیسہ (Easypaisa) جیسے ڈیجیٹل والٹ جو چھوٹی قرضہ خدمات پیش کرتے ہیں۔

نمو کا رجحان اور توسیع کے منصوبے:

عدل فائی نے لانچ کے بعد 19 ماہ میں ماہانہ قرض کے حجم میں 30 فیصد کی متاثر کن ترقی حاصل کی ہے۔ یہ کمپنی پاکستان سے باہر اپنی خدمات کو وسعت دینے پر بھی غور کر رہی ہے، اور 2024 کے آخر تک پاکستان سے باہر پہلے بینک کے ساتھ حتمی بات چیت جاری تھی۔ قیادت کی سطح پر نئی بھرتیاں (جیسے ہیڈ آف کریڈٹ ایکسیلنس، MEA سیلز) مشرق وسطیٰ اور APAC خطوں میں توسیع کے عزائم کی نشاندہی کرتی ہیں۔ عدل فائی 17 بینکوں اور قرضہ دینے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور ٹیلی کام کمپنیوں اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کے ساتھ بھی شراکت داری کے مواقع تلاش کر رہی ہے۔

ممکنہ قرض خواہوں کے لیے عملی مشورہ

عدل فائی کی خدمات پاکستان کے مالیاتی نظام کے لیے یقیناً ایک مثبت اضافہ ہیں، خاص طور پر مالیاتی شمولیت کو بڑھانے اور فوری قرضوں تک رسائی فراہم کرنے میں۔ تاہم، ممکنہ قرض خواہوں کے لیے کچھ اہم باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:

  • شراکت دار بینک سے براہ راست تصدیق: چونکہ عدل فائی صرف ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے اور قرض کی شرائط بینک طے کرتے ہیں، اس لیے قرض کی درخواست دینے سے پہلے متعلقہ بینک سے شرح سود (APR)، فیس، قرض کی مدت، اور ادائیگی کے شیڈول سمیت تمام شرائط و ضوابط کی مکمل معلومات حاصل کریں۔
  • اپنی قرض لینے کی صلاحیت کا جائزہ لیں: کسی بھی قرض کے لیے درخواست دینے سے پہلے، اپنی مالی حیثیت اور ماہانہ آمدنی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ صرف اتنی رقم کا قرض لیں جسے آپ آسانی سے واپس کر سکیں۔ ذمہ دارانہ قرض لینا آپ کے کریڈٹ اسکور کو بہتر بناتا ہے اور مستقبل میں قرض کے حصول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • شرح سود اور فیس کو سمجھیں: مختلف بینکوں کی شرح سود اور پروسیسنگ فیس میں فرق ہو سکتا ہے۔ تمام لاگتوں کو واضح طور پر سمجھیں تاکہ بعد میں کسی مالی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بعض اوقات بظاہر کم شرح سود کے ساتھ چھپی ہوئی فیسیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
  • کریڈٹ اسکور کی اہمیت: عدل فائی کا نظام کریڈٹ اسکورنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ایک اچھا کریڈٹ اسکور آپ کو بہتر قرض کی پیشکشیں حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اپنی کریڈٹ ہسٹری کو صاف رکھیں اور بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنائیں۔
  • دستاویزات کی فراہمی: اگرچہ عمل ڈیجیٹل ہے، پھر بھی بینک کی جانب سے کچھ ضروری دستاویزات (جیسے شناختی کارڈ، آمدنی کا ثبوت) کی طلب کی جا سکتی ہے۔ انہیں تیار رکھیں تاکہ درخواست کا عمل ہموار رہے۔
  • ڈیفالٹ کے نتائج: قرض کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں جرمانے کی فیس، کریڈٹ اسکور میں کمی، اور مستقبل میں قرض حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سنگین صورتوں میں قانونی کارروائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
  • شکایات کا ازالہ: اگر آپ کو قرض یا بینک کی خدمات سے متعلق کوئی شکایت ہے تو پہلے متعلقہ بینک کے کسٹمر سروس ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کریں۔ اگر وہاں حل نہ ہو تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کریں۔

عدل فائی جیسے پلیٹ فارمز پاکستان میں مالیاتی خدمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا کر معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم، ایک سمجھدار قرض خواہ ہونے کے ناطے، آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ تمام معلومات کو اچھی طرح سمجھیں اور ہوشیاری سے مالی فیصلے کریں۔

کمپنی کی معلومات
4.59/5
تصدیق شدہ ماہر
جیمز مچل

جیمز مچل

بین الاقوامی مالیاتی ماہر اور کریڈٹ تجزیہ کار

۱۹۳ ممالک میں قرض کی منڈیوں اور بینکاری نظاموں کا تجزیہ کرنے کا ۸ سال سے زیادہ کا تجربہ۔ آزادانہ تحقیق اور ماہرانہ رہنمائی کے ذریعے صارفین کو باخبر مالی فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا۔

3 دن پہلے تصدیق شدہ
۱۹۳ ممالک
۱۲,۰۰۰+ جائزے